مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر و ناظم الامور غلام حسین درزی نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام خط میں کہا کہ نیٹو کے سیکرٹری جنرل کے بیانات میں امریکی فوجی کارروائیوں کی حمایت میں یورپ کے فوجی اڈوں کے وسیع پیمانے پر استعمال کا اعتراف کیا گیا ہے جو کہ بین الاقوامی قوانین عالمی ادارے کے منشور سے متصادم ہے۔
غلام حسین درزی نے اپنے خط میں نیٹو کے سیکرٹری جنرل کی جانب سے دیے گئے بیانات اور ان کے قانونی و سیاسی اثرات کی جانب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے ارکان کی توجہ مبذول کرائی۔
انہوں نے لکھا کہ نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے گزشتہ دنوں نیٹو کے مستقبل سے متعلق ایک عوامی تقریب سے خطاب کے دوران ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ یورپی اڈوں سے نام نہاد آپریشن ایپک فیوری کی حمایت میں پرواز کرچکے ہیں۔
درزی کے مطابق نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے واضح کیا کہ یہ تعداد صرف اپریل کے وسط تک کے عرصے کے لیے ہے اور اس کے بعد حقیقی تعداد ممکنہ طور پر کہیں زیادہ رہی ہے۔
ایرانی سفیر نے اپنے خط میں کہا کہ یہ امر امریکی فوجی اقدامات کی حمایت میں یورپی سرزمین اور بنیادی ڈھانچے کے نمایاں کردار کی نشاندہی کرتا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے نقطہ نظر سے اس صورت حال کے نتیجے میں متعلقہ ریاستوں کی بین الاقوامی ذمہ داری اور ان یورپی حکام کی انفرادی فوجداری ذمہ داری کا معاملہ اٹھ سکتا ہے جو امریکہ اور اسرائیلی حکومت کی جانب سے ایران میں جارحیت اور جنگی جرائم کے زمرے میں آنے والے اقدامات کی منصوبہ بندی، تیاری، سہولت کاری یا انجام دہی میں ملوث رہے ہوں۔
درزی نے خط میں مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران پہلے بھی متعدد مرتبہ واضح کرچکا ہے کہ وہ امریکہ اور صہیونی حکومت کی جانب سے اپنے خلاف کیے جانے والے فوجی اقدامات کو ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی اور اقوام متحدہ کے منشور کے منافی سمجھتا ہے۔
ایرانی سفیر نے یہ بھی کہا کہ پیش کی گئی رپورٹس اور دستاویزات کے مطابق امریکی فوجی اقدامات میں شہریوں اور غیر فوجی اہداف پر حملے بھی شامل رہے ہیں۔ ایران ان اقدامات کو بین الاقوامی انسانی قانون اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں کے منافی قرار دیتا ہے۔
غلام حسین درزی نے مزید کہا کہ ایران اس سے قبل اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور سلامتی کونسل کو آگاہ کرچکا ہے کہ اس کے مطابق بعض یورپی ممالک نے اپنی سرزمین، فضائی حدود، فوجی تنصیبات اور دیگر لاجسٹک و آپریشنل صلاحیتیں مذکورہ حملوں کی منصوبہ بندی، تیاری اور انجام دہی کے لیے فراہم کرکے ان اقدامات کو سہولت فراہم کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کا طرز عمل اقوام متحدہ کے منشور میں درج ذمہ داریوں سے متصادم ہے۔
آپ کا تبصرہ